Friday, December 29, 2017

wahabiat eknasoor islam ki ander


وہابیت کیا ہے؟ عالمِ اسلام اس کا دخول کسے ہوا؟

میرے نزدیک وہابیت ایک ایسا فتنہ ہے جس کا بیج انگریزوں نے عالمِ اسلام میں قادینات کے بیج سے بھی تقریباً 100 سو سال پہلے بویا تھا۔ بچپن میں ہمارے گاؤں کا مولوی کہا کرتا تھا کہ اگر کوئی وہابی مسجد میں �آ جائے تو مسجد پاک کرنی چاہیے۔ ہمارے بزرگوار فرماتے تھے کہ مولوی غلط کہتا ہے۔کیونکہ وہاب اللہ کے اسماء حسنہ میں سے ایک اسم ہے لہذٰہ اللہ کو ماننے والے سب مسلمان وہابی ہیں۔ میرا استعدال یہ ہوتا تھا کہ اس طرح تو مسیحی حضرات بھی اللہ کو مانتے ہیں لہذٰہ وہ بھی وہابی ہوئے۔کبھی خیال جاتا کہ شاید دیو بندی مکتبہ فکر حضرات کو وہابی کہتے ہیں لیکن چونکہ دیو بندی مسلک سے تعلق رکھنے والے بھی حضرت امام ابو حنیفہ ؒ کے مقلد ہیں۔ کبھی خیال ہوتا کہ شاید الحدیث حضرات وہابی کہلاتے ہیں لیکن وہ امام شافی ؒ کے مقلد ہیں۔ نئی نسل جب سوال کرتی ہے کہ وہابی کون ہیں تو عموماً یہی جواب دیا جاتا ہے کہ یہ ایک فتنہ ہے لیکن سوال صرف یہ رہ جاتا ہے کہ ان حضرات کی نشان دہی کیسے ہو۔ یہ بھی سننے میں آتا رہتا ہے کہ عالمِ اسلام میں مبلغین کی شکل میں یہ فتنہ سرایت کر چکا ہے۔جبکہ مبلغین کو اگر سنا جائے تو وہ بھی قرآن اور سنہ سے باہر کوئی وعظ نہیں کرتے۔ تو پھر سوال یہ ہوتا ہے کہ یہ کون سی مخلوق ہے جو دین کا لبادہ اوڑھے عالمِ اسلام میں داخل ہو چکی ہے!ہم مندرجہ ذیل دو مثالوں سے کوئی نتیجہ اخذ کرنے کی کوشش کرتے ہیں:۔
۱: تقریباً بیس سال پہلے میں نے ایک انگریز جاسوس جس کا نام ہمفرے(HUMFRAY ) تھا اس کی کتاب (THE MEMORIES OF HUMFRAY )یعنی ’’ ہمفرے(HUMFRAY ) کی یاداشتیں پڑھی تھی۔جس کتاب میں ہمفرے(HUMFRAY ) لکھتا ہے کہ ‘‘نو عمری میں ہی حکومت برطانیہ نے مجھے دمشق کی اسلامک یونیورسٹی میں ایک مشن کے تحت داخل کرایا۔ اس سلسلے میں حکومت برطانیہ کو کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑے وہ ایک علیحدہ داستان ہے۔میرے مشن میں اسلامی تعلیمات ، حفظ قرآن، فقہی علوم اور شرعی مسائل کی مکمل تعلیم حاصل کر کہ ایک کامل عالم دین بننا تھا۔میری تدریس بہت ہی اچھے انداز میں جاری رہی اور حکومت برطانیہ کے کار کہ مطابق مجھے ہر ماہ پراگرس رپورٹ بھیجنی پڑتی تھی۔تعلیم مکمل کرنے کے بعد دوسرا مشن بعد میں سونپا جانا تھا دوران تدریس اچانک مجھے پریشانی لاحق ہو گئی۔ میرا معلم میری نو عمری اور گورے رنگ کی طرف راغب ہو گیا جس کی نظریں التفات سے مجھے اندازہ ہو گیا۔وہ تدریس کے معاوضے کے طور پر میری جسمانی کربت حاصل کرنے کا خواہ ہاں تھا۔میں نے اس پریشانی سے حکومت برطانیہ کو اگاہ کیا ۔ مجھے انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ حکومت برطانیہ نے بجائے اس مصیبت سے چھٹکارہ دلانے کے مجھے حکم دیا کہ قومی خدمت کے جذبے کہ تحت تھہیں جو بھی قربانی نے اس قسم کی کبھی قربانی دینے کی بجائے کوشش کر کہ اپنا داخلہ بغداد یونیورسٹی میں کروا لیا ۔بغداد یونیورسٹی میں میری تدریس اسی طرح جاری رہی اور میں یونیورسٹی کہ چیدہ چیدہ طالبعلموں میں شمار ہونے لگا۔اسی دوران میری ملاقات عبد الوہاب نامی طالبعلم سے ہوئی جو میرا روم میٹ بھی تھایہ شحض بہت ہی ذہین اور شرعی مسئلے مسائل میں بہت قابلیت کا حامل تھا۔بعد میں یہ شحض شیخ عبدالوہاب نجدی کے نا م سے مشہور ہوا۔ بغداد یونیورسٹی میں میری تعلیم مکمل ہونے کو تھی کہ حکومت برطانیہ نے مجھے تین ایسے طالبعلموں کے نام مانگے جو مستقبل میں حکومت برطانیہ کے مشن کو مکمل کرسکیں۔ میں نے اپنے علم و تجربے کہ مطابق حکومت کو تین نام ارسال کئے ۔جن میں شیخ عبدالوہاب کی میں نے پُر زار سفارش کی کہ یہ شحض حکومت برطانیہ کا مطلوبہ مشن جن میں شریعہ اسلامیہ میں نئی نئی احتراجات ایجاد کرنا ۔اسلامی ممالک میں آپس میں فتنہ و فساد برپا کرنا وغیرہ وغیرہ خوش اسلوبی سے مکمل کر سکتا ہے۔ لہذٰہ میری سفارشات کی بنیاد پر حکومتِ برطانیہ نے شیخ عبدالوہاب کو نجد کا حاکم بنایا جس نے پورے حجاز میں فتنہ و فساد برپا کیا ‘‘
۲:اس سلسلے میں میری دوسری مثال نواب سید احمد خاں چھتاری (۱۹۴۰)کی یاداشتیں ہیں۔نواب صاحب ۱۹۴۰ کی دہائی میں اترپردیش کے گورنر تھے۔انگریزی حکومت میں انہیں یہ اہم عہدہ اس لئے عطا کیا تھاکہ وہ مسلم لیگ اور کانگریس کی ساست سے لاتعلق رہ کر انگریزوں کی وفاداری کا دم بھرتے تھے۔اپنی یاداشتوں میں وہ فرماتے ہیں کہ ایک بار اُنہیں سرکاری ڈیوٹی پر لندن بلایا گیا۔ اُن کے ایک پکے انگریز دوست نے جو ہندو ستان میں کولکلڑرہ چکا تھا نواب صاحب سے کہا’’آئی اے!آپ کو ایک ایسی جگہ کی سیر کرواں جو کوئی یہاں سے دیکھ کر نہیں گیا‘‘
نواب صاحب خوش ہو گے۔انگریز کولکلڑ نے نواب صاحب سے پاسپورٹ مانگا کہ وہ جگہ دیکھنے کے لیے حکومت سے اجازت لینی ہوتی ہے۔دو روز بعد کولکلڑاجازت نامہ ساتھ لے کر آیا اور کہا ’’ہم کل صبح چلیں گے لیکن میری موٹر میں ، سرکاری موٹر لے جانے کی اجازت نہیں ہی‘‘اگلی صبح نواب صاحب اور وہ انگریز منزل کی طرف روانہ ہوئے ۔ شہر سے باہر نکل کر بائیں طرف جنگل شروع ہو گیا۔ جنگل میں ایک پتلی سی سڑک تھی ۔جوں جوں چلتے گے جنگل گنا ہوتا گیا۔سڑک کے دونوں جانب نہ کوئی ٹریفک اور نہ کوئی پیادہ ۔نواب صاحب حیران بیٹھے ادھر اُدھر دیکھ رہے تھے۔موٹر چلتے چلتے آدھے گھنٹے سے زیادہ وقت گزر چکا تھا تھوڑی دیر کے بعد ایک بہت بڑا گیٹ سامنے نظر آیا۔دور سامنے ایک نہایت وسیع و عریض عمارت تھی جس کے چاروں طرف گھنے کانٹے دار جھاڑیاں اور درختوں کی ایسی دیوار تھی جسے عبور کرنا ممکن نا تھا اور عمارت کے چاروں طرف زبردست فوجی پہرہ تھا۔اس عمارت کے باہر ہی فوجیوں نے پاسپورٹ اور تحریری اجازت نامے کو غور سے دیکھا اورحکم دیا کہ اپنی موٹر وہی چھوڑ دیں اور آگے جو فوجی گاڑی کھڑی ہے اس میں جائیں۔نواب صاحب اور انگریز کولکلڑان پہرا داروں کی دی ہوئی موٹر میں بیٹھ گے اور پتلی سڑک پر آگے چلتے رہے۔ وہی گھنا جنگل اور دونو ں طرف جنگلی درختوں کی دیواریں ۔نواب صاحب گھبرانے لگے ۔انگریز نے کہا ’’بس منزل آنے والی ہے‘‘دور ایک اور سرخ پتھر کی بڑی سی عمارت نظر آئی تو انگریز نے موٹر روک دی اور کہا یہاں سے آگے صرف پیدل جا سکتے ہیں۔اور پھر نواب صاحب سے کہا کہ یاد رکھیں کہ ’’آپ یہاں صرف کچھ دیکھنے آئے ہیں بولنے یہ سوال کرنے کی بلکل اجازت نہیں ہے‘‘۔عمارت کے شروع میں وسیع دالان تھا ۔اس کے پیچھے معتدد کمرے تھے ۔دالان میں داخل ہوئے تو ایک نوجوان باریش عربی کپڑے پہنے سر پر عربی رومال لپیٹے ایک کمرے سے نکلا دوسرے کمرے سے ایسے ہی دو نوجوان اور نکلے پہلے نے عربی لہجے میں ’’اسلام وعلیکم‘‘دوسرے نے ’’وا علیکم اسلام ‘‘ کہا اور پوچھا کیا حال ہے؟ نواب صاحب حیران رہ گے! کچھ پوچھنا چاہئے تھے لیکن انگریز نے فوراً اشارے سے منع کیا چلتے چلتے ایک کمرے کے دروازے پر پہنچے دیکھا کہ اندر مسجد جیسا فرش بچھا ہے ۔ عربی لباس میں معتدد طلباء فرش پر بیٹھیں ہیں اور ان کے سامنے ان کے استاد بالکل اس طرح بیٹھے سبق پڑھا رہے ہیں جیسا اسلامی مدرسوں میں استاد پڑھاتے ہیں ۔طلباء عربی میں اور کبھی انگریزی میں استاد سے سوال بھی کرتے ہیں۔ نواب صاحب نے دیکھا کہ اسی کمرے میں قرآن مجید پڑھایا جا رہا ہے۔ کہیں قرات سکھائی جا رہی ہے۔کہیں تفسیر کا درس ہو رہا ہے کہیں بخاری شریف کا درس دیا جا رہا ہے۔ کہیں مسلم شریف کا۔ایک کمرے میں مسلمانوں اور مسیحیوں کے درمیان مناظرہ ہو رہا ہے۔ایک کمرے میں فقہی مسائل پر بات ہو رہی ہے۔ سب سے بڑے کمرے میں قرآن کا ترجمہ کرنا مختلف زبانوں میں سیکھایا جا رہا ہے۔
نواب صاحب نے نوٹ کیا کہ باریک باریک مسئلے مسائل پر ہر جگہ زور ہے۔ مثلاً غسل کا طریقہ، وضو، روزے، نماز اور سجدہ سہو کے مسائل ، وراثت اور رضاعت کے جھگرے ، لباس اور داڑی کی وضع قطع ، گا گا کر آیات پڑھنا ، غسل خانے کے آداب ، گھر سے باہر جانا آنا ، درد کے ساتھ ، لونڈی غلاموں کے مسائل ، حج کے مناسک ، بکرا اور دنبہ کیسا ہو، چھڑی کیسی ہو؟ کوا حلال ہے یا حرام؟ حج بدل اور قضا ء نمازوں کی بحث ، عید کا دن کیسے طے کیا جائے اور حج کا کیسے؟ عورت کی پاکی ناپاکی کے جھکڑے ، حضورؐ کی میراج روحانی تھی جا جسمانی؟ امام کی پیچھے سورۃ فاتحہ پڑھی جائے گی کہ نہیں؟ تراویح کی رکعتیں 8 ہیں یا 20؟ نماز کے دوران وضو ٹوٹ جائے تو آدمی کیا کرے؟سود مفرد جائز ہے یا نا جائز؟ اعتکاف کے مسائل ، تجوید، مسواک کا استعمال ، روزہ ٹوٹنے جُڑنے کے معاملے ، عورت برقعہ پہنے یا چادر اوڑھے؟ اونٹ پر بہن بھائی بیٹھیں تو آگے بہن ہو یا بھائی؟کون سے وظیفے پڑھے جائیں؟
ایک استاد نے سوال کیا پہلے عربی پھر انگریزی اور آخر میں نہایت شستہ اردو میں جماعت اب یہ بتائے کہ جادو ، نظرِ بد، تعویز گندھ، اسیب کا سایہ بھر حق ہے یا نہیں؟ 35 40 طلباء کی یہ جماعت بیک آواز پہلے انگریزی میں بولی ’TRUE ‘ ’TRUE ‘ پھر عربی میں جواب دیا ’صحیح ‘ ، ’مضبوط‘یعنی اردو میں بر حق بر حق !
پھر ایک طالب علم نے کھڑے ہو کر سوال کیا ’’ہر استاد عبادت کے لئے نیت ضروری ہوتی ہے تو مردہ لوگوں کا حج بدل کیسے ہو سکتا ہے؟ قرآن تو کہتا ہے ہر شحض اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے‘‘ استاد بولے ’’قرآن ‘‘کی بات مت کرو روایات میں مسئلے ڈھونڈا کرو ۔ جادو ، نظرِ بد، تعویز، سیب وظیفے اور ورد استخارہ میں مسلمانوں کا ایمان پکا کر دو اور ستاروں میں ، ہاتھ کی لکیروں میں مقدر اور نصیب ہیں۔
یہ سب دیکھ کر ہم واپس ہوئے تو نواب چھتاری نے انگریزکولکلڑسے پوچھا ’’اتنے بڑے عظیم دینی مدرسے کو آپ نے چھپا کر کیوں رکھا ہے؟ انگریز نے کہا ، ان سب میں کوئی مسلمان نہیں‘‘ یہ سب عیسائی ہیں۔ تعلیم مکمل کرنے پر انہیں مسلمان ملکوں میں حصوصاً مشرقِ وسطا ، ترکی ، ایران اور ہندو ستان (برصغیر 1940 ) بھیج دیا جاتا ہے ۔ وہاں پہنچ کر یہ کسی بڑی مسجد میں جا کر نمازمیں شریک ہوتے ہیں نمازیوں کو کہتے ہیں کہ وہ یورپی مسلمان ہیں انہوں نے مصر کے جامع الاظہر جیسی یونیو رسٹی میں تعلیم پائی اور مکمل عالم ہیں۔
یورپ میں اتنے اسلامی ادارے موجود نہیں ہیں کہ وہ تعلیم دے سکیں وہ سردسر تنخواہ نہیں چاہتے صرف کھانا کپڑا سر چھپانے کی جگہ درکار ہے۔پھر وہ مؤذن،پیش ا مام
بچوں کے لیے قرآن کے معلم کی خدمات پیش کرتے ہیں۔تعلیمی ادارے ہوں تو اس میں استاد مقرر ہو جاتے ہیں۔ جمعہ کے خطبہ تک دیتے ہیں۔
نواب صا حب کے انگریز میزبان نے انہیں یہ کہہ کہ حیران کر دیا کہ اس عظیم مدرسے کا بنیادی ہدف یہ ہے کہ:۔
(۱)مسلمانوں کو روایات ذکر کر کے وظیفوں اور نظری مسائل میں الجھا کر قرآن سے دور رکھا جائے۔
(۲)حضوراکرمؐ کا درجہ جس طرح بھی ہو سکے گھٹایا جائے۔کبھی یہ کہہو کہ آپؐ رجل مسحور(نعوذ باللہ) یعنی جادو زدہ تھے ،کبھی حدیثوں کے حوالے سے یہ کہ
آپؐ نے بچی سے نکاح کیا تھا اور یہ آپ ہر رات گیارہ بیویوں کا دورہ فرمایا کرتے تھے۔
اِس انگریز نے یہ بھی بتایا کہ 1920 میں ’’رنگیلارسول ‘‘ نامی کتاب راجپال سے اسی ادارے نے لکھوائی تھی ۔ اس سے کئی برس پہلے مرزا غلام احمد قادیانی اور بہا اللہ کو نبی بنا کر کھڑا کرنے والا یہی ادارہ تھا اور اُن کی کتابوں کی بنیاد لندن کی اسی عمارت سے تیار کی جاتی تھی (حوالہ اردو ڈائجسٹ نومبر 1992لاہور)
خدایا ایسا نہ ہو کہ مغرب رہن ہی میرا سماج رکھ لے
ہے فتنہ پرورنظام عالم تو اپنے مسلم کی لاج رکھ لے
قارئین اکرام مندرجہ بالا دو مثالوں سے آپ کو یقیناًاندازہ ہو گیا ہو گا کہ وہابیت عالم اسلا م میں کسی مسلق کا نہیں بلکہ ہماری صفوں میں ایک زہر کی شکل میں سرائت کرنے ولا ایک ناسور ہے۔ ہمیں دیکھنا یہ کہ جبہ پوش گوری چمڑی والے مبلغین کہیں اس قسم کے مدرسوں سے تو تعلیم یافتہ نہیں جن کا اوپرذکر کیا گیا ہے ۔ اپنے علم کے طور پر ایک چھوٹی سی مثال اور دے دوں شاید اس سے وہابیت کو سمجنھے میں مزید آسانی ہو۔ وہابیت قبروں اور مزاروں پر پھول چڑھانے کو سختی سے منع کرتی ہے۔اس ممنوع حکم سے اُن کی کیا مراد ہے میں سمجھے سے قاصر تھاکہ ایک روز میں نے حضور اکرم کی ایک حدیث پڑھی جس کا مفہوم یہ تھا کہ نبی اکرمؐ صحابہ کی جماعت کے ساتھ ایک قبر ستان سے گزر رہے تھے ایک قبر کے پاس سے گزرتے ہوئے قریب ہی ایک درخت سے تازہ شاخ توڑ کر قبر پر رکھ دی صحابہ کرام کے اسفسار پر آپؐ نے فرمایا کہ اس صاحبِ قبر پر عذاب ہو رہا تھا۔ شاخ کے تازہ پتے چونکہ ذکرِالہیٰ میں مشغول رہتے ہیں لہذٰہ جب تک یہ پتے خشک نہیں ہو جاتے ذکر الہیٰ کی وجہ سے یہ عذاب موقوف رہے گا۔ آج کے دور میں بھی جدید سائنس کی تحقیق سے ثابت ہے کہ تمام نباتات جاندار ہیں اور آکسیجن حاصل کرتے ہیں لہذٰہ جاندار ہونے کے ناطے ذکرِ الہیٰ میں مشغول رہتے ہیں۔ لیکن ہمیں اس کا ادراک نہیں ہے۔ اسی طرح پھول کی پتیاں بھی زیادہ دیر تک تازہ رہتی ہیں جس کا مطلب قبر پر چڑھانے سے اہل قبر کو عذاب سے محفوظ رکھنا ہے۔
ضرورت اس عمل کی ہے کہ تمام بڑے بڑے ممالک سے اچھے اچھے پھول لے کر ایک گلدستہ بنایا جائے اور خیال رہے کہ اس گلدستے میں کوئی کانٹا وہابیت کی شکل میں شامل نہ ہو۔ علماء کرام کو موجودہ دور میں تما م مکتباء فکر آئمہ و طاہرین کی روایات کو مد نظر رکھ کر ایک ایسا ہی گلدستہ بنانے کی ضرورت ہے (امی

Thursday, December 28, 2017

shah ka tarif


Note: Our book “Azkar-e-Kainat aur Gard-e-Safar” can help on this topic in detail. Allah is the one. His oneness and greatness is single. But he blessed one lac and twenty-five thousand prophets. It has been done from the “Adam” till holy prophet Muhammad (PBUH), and will go on from Muhammad (PBUH) till the day of judgment. On the one hand Allah Taala had been sending the prophets in a series to cause to agree to his oneness and on the other hand Satan and his followers have been destroying. Whenever, any prophet had died, the followers of Satan got busier in spreading evils and devastation, behind him (prophet) putting down/ignoring his guidance in a little time. Some cursed devils attempted to claim they were god, to guide them Allah sent his messengers. Its concluded that the fight of good and bad is from the day first and it will remain forever.

There are millions of religions and concepts in the world and everyone of them has certain quality. But all these knowledge's are bleak and useless in front of Islam. All the development made in science till today is just like a little glimpse with comparison to the holy Quran. Where human mind stops thinking, all the thoughts become useless, right from there starts the teachings of holy Quran. And it guides to all the followers and researchers to the right path.

They were great being the muslims of their time…
We have been cursed since we forgot the teachings of Quran …

shah sab

H Welcome To Our Site

Why am I enforced to write this book? When I got my senses I forced Hindus and Sikhs around me. There was an inheritage and spiritualism in my frothiness/My forefathers were the bears of spiritual values. Most of the knowledge I gained from my fathers/forefathers/predecessors. Whenever there is an increase in cruelty and justice is nominal, end forced hold there. Satan just for his own sake makes people adopt unseen and unheard values, rules and fake knowledge. On the one hand evil prevails, and on the other hand the virtue makes effort to be followed. Having traveled through the world you find not only thousands but millions of doctrines that are either encouraging/inspiring welfare or making destruction for the society. The doctrines that cause destruction of the society may be named as hypnotism, synergism, Conjuring, Juggling, Enchant, Obsesnatory, Charm etc. The purification of heart, spiritualism belongs to encouraging and good deeds.

taarif


It is a flame of light which is granted by Allah on hearts. In the present age, the world /the present world believes in evil spirits, ghosts, misfortunes and calamities. Though science has made great advancements still the scientists know not how a humble person tells what is going to happen next. Visit….. and see there is a wave of light coming from the tomb of Firon. Modern science and technology of the day cannot understand it.
Firon has a knowledge/doctrine/learning. His learning was on the base of his claim of being god. Before him such spirits work which we call enchants. As man is making more and more developments, the misfortunes and calamities are chasing him. Every person of the world today is suffering from strange confusions. Every learning but the right one, leading a man towards destruction and backwardnes

taaruif syed sab


We have studies most doctrines. We have visited and observed many enchanters, white and black, to know the facts. But we have found no other perfect solution towards the welfare of men, whether he belongs to any nation, religion and group. The only way to the contentment and solution of the problems is the doctrine of Al-Quran and the learning of leading. This is the only knowledge that can satisfy everyone.

taarf bukari

nd we also claim that Quran-ul-Kareem has still domination over all the knowledge's of the universe. And spiritualism is the name of that knowledge which appears to a man from Allah Almighty through the purification of heart. Man of today is much busy and the ones belonged to the latter related knowledge's do their job very well, because of which the kindness Lesley rather the devastation of humanity is being spread at the great extend. I have written these books. The people who are looking forward to the truth, who need the spiritual consolation and cure, to be heartily satisfied and spiritually consoled would get benefit from these book

taaaruf syed maqsood ali

An old sorceress of three hundred and twenty five years old, in the jungles of south Africa, whose eyes are much inside and her body remains only a skeleton of bones, namely “Kal Mohni” sitting in a cave of a mountain. It is better to call her a queen of spirit/soul. She wants to dominate over the whole world with her evil spirit. 

So we want to let the whole world enlighten with the help of the holy knowledge which is being bestowed from the generation to generation from our holy ancestors. (May Allah help us – amen)

tarufsyed maqsood ali bukhari

)

Note: Our book “Azkar-e-Kainat aur Gard-e-Safar” can help on this topic in detail. Allah is the one. His oneness and greatness is single. But he blessed one lac and twenty-five thousand prophets. It has been done from the “Adam” till holy prophet Muhammad (PBUH), and will go on from Muhammad (PBUH) till the day of judgment. On the one hand Allah Taala had been sending the prophets in a series to cause to agree to his oneness and on the other hand Satan and his followers have been destroying. Whenever, any prophet had died, the followers of Satan got busier in spreading evils and devastation, behind him (prophet) putting down/ignoring his guidance in a little time. Some cursed devils attempted to claim they were god, to guide them Allah sent his messengers. Its concluded that the fight of good and bad is from the day first and it will remain forever.

There are millions of religions and concepts in the world and everyone of them has certain quality. But all these knowledge's are bleak and useless in front of Islam. All the development made in science till today is just like a little glimpse with comparison to the holy Quran. Where human mind stops thinking, all the thoughts become useless, right from there starts the teachings of holy Quran. And it guides to all the followers and researchers to the right path.

They were great being the muslims of their time…
We have been cursed since we forgot the teachings of Quran …

Friday, December 22, 2017

good dua allah

                                          https://ruhanisyed.blogspot.com/

fan e khatie

                                                   https://ruhanisyed.blogspot.com/                            

Tuesday, December 19, 2017

jab insan in ghron mean tahty thy


                                                               https://ruhanisyed.blogspot.com/

isras quran


                                                                 https://ruhanisyed.blogspot.com/

Wednesday, December 13, 2017

wsaudi arb yahoodi ki sath gath jor


                   

                                           asi baten jen se musalman la elim heen 
                                                                                                       
                                       (1)esraeel america  india ka iran ke khlaf mansoba 
                                       (2) kaba aur madina me rado badi yahodiyatki mdakhlat   
                      saudi arb ko  khity meen man mani ni kari chiy ye tamam muslmaton ma din islam aour eman ma mar kz hi
                        
                   allah ni quean al karem men  sora anfal toba almayda meen kha hi musalmano yahood ansara se doati aour len den mat kro ye tumhary dushm heento pher saudi arb ka in se muhdy aur khfia muahdyas al mahool munafkat hi  ek tu aebon dalir tamam muslmano se haj umra ka nam fand  lita hidosra hujg se zapmana  salok karta hihteem ke indr hazrt hajram aur hazat asmeel kabreen heen imam raza ke farman ke mutbk degr 70imcyan ki kavren jo kabba ibtdai dor ki kutb meen  dekhi ja skti hen in mukads kabor katakdas rakha is nkli kaba aur madina ke matwli fakt mukhls ho kar apna freza ada kar na chy wana ye kabaaur kise aur aslami mulk de warna in mukamat ko apni marzi ke mutabk umhe muslim ijzat ni dengy www,syedalasar,com

72 shohda ki nam grami


                                                 https://ruhanisyed.blogspot.com/

al hibhab devil asr ston


                                                      https://ruhanisyed.blogspot.com/

Tuesday, December 12, 2017