میرے نزدیک وہابیت ایک ایسا فتنہ ہے جس کا بیج انگریزوں نے عالمِ اسلام میں قادینات کے بیج سے بھی تقریباً 100 سو سال پہلے بویا تھا۔ بچپن میں ہمارے گاؤں کا مولوی کہا کرتا تھا کہ اگر کوئی وہابی مسجد میں �آ جائے تو مسجد پاک کرنی چاہیے۔ ہمارے بزرگوار فرماتے تھے کہ مولوی غلط کہتا ہے۔کیونکہ وہاب اللہ کے اسماء حسنہ میں سے ایک اسم ہے لہذٰہ اللہ کو ماننے والے سب مسلمان وہابی ہیں۔ میرا استعدال یہ ہوتا تھا کہ اس طرح تو مسیحی حضرات بھی اللہ کو مانتے ہیں لہذٰہ وہ بھی وہابی ہوئے۔کبھی خیال جاتا کہ شاید دیو بندی مکتبہ فکر حضرات کو وہابی کہتے ہیں لیکن چونکہ دیو بندی مسلک سے تعلق رکھنے والے بھی حضرت امام ابو حنیفہ ؒ کے مقلد ہیں۔ کبھی خیال ہوتا کہ شاید الحدیث حضرات وہابی کہلاتے ہیں لیکن وہ امام شافی ؒ کے مقلد ہیں۔ نئی نسل جب سوال کرتی ہے کہ وہابی کون ہیں تو عموماً یہی جواب دیا جاتا ہے کہ یہ ایک فتنہ ہے لیکن سوال صرف یہ رہ جاتا ہے کہ ان حضرات کی نشان دہی کیسے ہو۔ یہ بھی سننے میں آتا رہتا ہے کہ عالمِ اسلام میں مبلغین کی شکل میں یہ فتنہ سرایت کر چکا ہے۔جبکہ مبلغین کو اگر سنا جائے تو وہ بھی قرآن اور سنہ سے باہر کوئی وعظ نہیں کرتے۔ تو پھر سوال یہ ہوتا ہے کہ یہ کون سی مخلوق ہے جو دین کا لبادہ اوڑھے عالمِ اسلام میں داخل ہو چکی ہے!ہم مندرجہ ذیل دو مثالوں سے کوئی نتیجہ اخذ کرنے کی کوشش کرتے ہیں:۔
۱: تقریباً بیس سال پہلے میں نے ایک انگریز جاسوس جس کا نام ہمفرے(HUMFRAY ) تھا اس کی کتاب (THE MEMORIES OF HUMFRAY )یعنی ’’ ہمفرے(HUMFRAY ) کی یاداشتیں پڑھی تھی۔جس کتاب میں ہمفرے(HUMFRAY ) لکھتا ہے کہ ‘‘نو عمری میں ہی حکومت برطانیہ نے مجھے دمشق کی اسلامک یونیورسٹی میں ایک مشن کے تحت داخل کرایا۔ اس سلسلے میں حکومت برطانیہ کو کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑے وہ ایک علیحدہ داستان ہے۔میرے مشن میں اسلامی تعلیمات ، حفظ قرآن، فقہی علوم اور شرعی مسائل کی مکمل تعلیم حاصل کر کہ ایک کامل عالم دین بننا تھا۔میری تدریس بہت ہی اچھے انداز میں جاری رہی اور حکومت برطانیہ کے کار کہ مطابق مجھے ہر ماہ پراگرس رپورٹ بھیجنی پڑتی تھی۔تعلیم مکمل کرنے کے بعد دوسرا مشن بعد میں سونپا جانا تھا دوران تدریس اچانک مجھے پریشانی لاحق ہو گئی۔ میرا معلم میری نو عمری اور گورے رنگ کی طرف راغب ہو گیا جس کی نظریں التفات سے مجھے اندازہ ہو گیا۔وہ تدریس کے معاوضے کے طور پر میری جسمانی کربت حاصل کرنے کا خواہ ہاں تھا۔میں نے اس پریشانی سے حکومت برطانیہ کو اگاہ کیا ۔ مجھے انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ حکومت برطانیہ نے بجائے اس مصیبت سے چھٹکارہ دلانے کے مجھے حکم دیا کہ قومی خدمت کے جذبے کہ تحت تھہیں جو بھی قربانی نے اس قسم کی کبھی قربانی دینے کی بجائے کوشش کر کہ اپنا داخلہ بغداد یونیورسٹی میں کروا لیا ۔بغداد یونیورسٹی میں میری تدریس اسی طرح جاری رہی اور میں یونیورسٹی کہ چیدہ چیدہ طالبعلموں میں شمار ہونے لگا۔اسی دوران میری ملاقات عبد الوہاب نامی طالبعلم سے ہوئی جو میرا روم میٹ بھی تھایہ شحض بہت ہی ذہین اور شرعی مسئلے مسائل میں بہت قابلیت کا حامل تھا۔بعد میں یہ شحض شیخ عبدالوہاب نجدی کے نا م سے مشہور ہوا۔ بغداد یونیورسٹی میں میری تعلیم مکمل ہونے کو تھی کہ حکومت برطانیہ نے مجھے تین ایسے طالبعلموں کے نام مانگے جو مستقبل میں حکومت برطانیہ کے مشن کو مکمل کرسکیں۔ میں نے اپنے علم و تجربے کہ مطابق حکومت کو تین نام ارسال کئے ۔جن میں شیخ عبدالوہاب کی میں نے پُر زار سفارش کی کہ یہ شحض حکومت برطانیہ کا مطلوبہ مشن جن میں شریعہ اسلامیہ میں نئی نئی احتراجات ایجاد کرنا ۔اسلامی ممالک میں آپس میں فتنہ و فساد برپا کرنا وغیرہ وغیرہ خوش اسلوبی سے مکمل کر سکتا ہے۔ لہذٰہ میری سفارشات کی بنیاد پر حکومتِ برطانیہ نے شیخ عبدالوہاب کو نجد کا حاکم بنایا جس نے پورے حجاز میں فتنہ و فساد برپا کیا ‘‘
۲:اس سلسلے میں میری دوسری مثال نواب سید احمد خاں چھتاری (۱۹۴۰)کی یاداشتیں ہیں۔نواب صاحب ۱۹۴۰ کی دہائی میں اترپردیش کے گورنر تھے۔انگریزی حکومت میں انہیں یہ اہم عہدہ اس لئے عطا کیا تھاکہ وہ مسلم لیگ اور کانگریس کی ساست سے لاتعلق رہ کر انگریزوں کی وفاداری کا دم بھرتے تھے۔اپنی یاداشتوں میں وہ فرماتے ہیں کہ ایک بار اُنہیں سرکاری ڈیوٹی پر لندن بلایا گیا۔ اُن کے ایک پکے انگریز دوست نے جو ہندو ستان میں کولکلڑرہ چکا تھا نواب صاحب سے کہا’’آئی اے!آپ کو ایک ایسی جگہ کی سیر کرواں جو کوئی یہاں سے دیکھ کر نہیں گیا‘‘
نواب صاحب خوش ہو گے۔انگریز کولکلڑ نے نواب صاحب سے پاسپورٹ مانگا کہ وہ جگہ دیکھنے کے لیے حکومت سے اجازت لینی ہوتی ہے۔دو روز بعد کولکلڑاجازت نامہ ساتھ لے کر آیا اور کہا ’’ہم کل صبح چلیں گے لیکن میری موٹر میں ، سرکاری موٹر لے جانے کی اجازت نہیں ہی‘‘اگلی صبح نواب صاحب اور وہ انگریز منزل کی طرف روانہ ہوئے ۔ شہر سے باہر نکل کر بائیں طرف جنگل شروع ہو گیا۔ جنگل میں ایک پتلی سی سڑک تھی ۔جوں جوں چلتے گے جنگل گنا ہوتا گیا۔سڑک کے دونوں جانب نہ کوئی ٹریفک اور نہ کوئی پیادہ ۔نواب صاحب حیران بیٹھے ادھر اُدھر دیکھ رہے تھے۔موٹر چلتے چلتے آدھے گھنٹے سے زیادہ وقت گزر چکا تھا تھوڑی دیر کے بعد ایک بہت بڑا گیٹ سامنے نظر آیا۔دور سامنے ایک نہایت وسیع و عریض عمارت تھی جس کے چاروں طرف گھنے کانٹے دار جھاڑیاں اور درختوں کی ایسی دیوار تھی جسے عبور کرنا ممکن نا تھا اور عمارت کے چاروں طرف زبردست فوجی پہرہ تھا۔اس عمارت کے باہر ہی فوجیوں نے پاسپورٹ اور تحریری اجازت نامے کو غور سے دیکھا اورحکم دیا کہ اپنی موٹر وہی چھوڑ دیں اور آگے جو فوجی گاڑی کھڑی ہے اس میں جائیں۔نواب صاحب اور انگریز کولکلڑان پہرا داروں کی دی ہوئی موٹر میں بیٹھ گے اور پتلی سڑک پر آگے چلتے رہے۔ وہی گھنا جنگل اور دونو ں طرف جنگلی درختوں کی دیواریں ۔نواب صاحب گھبرانے لگے ۔انگریز نے کہا ’’بس منزل آنے والی ہے‘‘دور ایک اور سرخ پتھر کی بڑی سی عمارت نظر آئی تو انگریز نے موٹر روک دی اور کہا یہاں سے آگے صرف پیدل جا سکتے ہیں۔اور پھر نواب صاحب سے کہا کہ یاد رکھیں کہ ’’آپ یہاں صرف کچھ دیکھنے آئے ہیں بولنے یہ سوال کرنے کی بلکل اجازت نہیں ہے‘‘۔عمارت کے شروع میں وسیع دالان تھا ۔اس کے پیچھے معتدد کمرے تھے ۔دالان میں داخل ہوئے تو ایک نوجوان باریش عربی کپڑے پہنے سر پر عربی رومال لپیٹے ایک کمرے سے نکلا دوسرے کمرے سے ایسے ہی دو نوجوان اور نکلے پہلے نے عربی لہجے میں ’’اسلام وعلیکم‘‘دوسرے نے ’’وا علیکم اسلام ‘‘ کہا اور پوچھا کیا حال ہے؟ نواب صاحب حیران رہ گے! کچھ پوچھنا چاہئے تھے لیکن انگریز نے فوراً اشارے سے منع کیا چلتے چلتے ایک کمرے کے دروازے پر پہنچے دیکھا کہ اندر مسجد جیسا فرش بچھا ہے ۔ عربی لباس میں معتدد طلباء فرش پر بیٹھیں ہیں اور ان کے سامنے ان کے استاد بالکل اس طرح بیٹھے سبق پڑھا رہے ہیں جیسا اسلامی مدرسوں میں استاد پڑھاتے ہیں ۔طلباء عربی میں اور کبھی انگریزی میں استاد سے سوال بھی کرتے ہیں۔ نواب صاحب نے دیکھا کہ اسی کمرے میں قرآن مجید پڑھایا جا رہا ہے۔ کہیں قرات سکھائی جا رہی ہے۔کہیں تفسیر کا درس ہو رہا ہے کہیں بخاری شریف کا درس دیا جا رہا ہے۔ کہیں مسلم شریف کا۔ایک کمرے میں مسلمانوں اور مسیحیوں کے درمیان مناظرہ ہو رہا ہے۔ایک کمرے میں فقہی مسائل پر بات ہو رہی ہے۔ سب سے بڑے کمرے میں قرآن کا ترجمہ کرنا مختلف زبانوں میں سیکھایا جا رہا ہے۔
نواب صاحب نے نوٹ کیا کہ باریک باریک مسئلے مسائل پر ہر جگہ زور ہے۔ مثلاً غسل کا طریقہ، وضو، روزے، نماز اور سجدہ سہو کے مسائل ، وراثت اور رضاعت کے جھگرے ، لباس اور داڑی کی وضع قطع ، گا گا کر آیات پڑھنا ، غسل خانے کے آداب ، گھر سے باہر جانا آنا ، درد کے ساتھ ، لونڈی غلاموں کے مسائل ، حج کے مناسک ، بکرا اور دنبہ کیسا ہو، چھڑی کیسی ہو؟ کوا حلال ہے یا حرام؟ حج بدل اور قضا ء نمازوں کی بحث ، عید کا دن کیسے طے کیا جائے اور حج کا کیسے؟ عورت کی پاکی ناپاکی کے جھکڑے ، حضورؐ کی میراج روحانی تھی جا جسمانی؟ امام کی پیچھے سورۃ فاتحہ پڑھی جائے گی کہ نہیں؟ تراویح کی رکعتیں 8 ہیں یا 20؟ نماز کے دوران وضو ٹوٹ جائے تو آدمی کیا کرے؟سود مفرد جائز ہے یا نا جائز؟ اعتکاف کے مسائل ، تجوید، مسواک کا استعمال ، روزہ ٹوٹنے جُڑنے کے معاملے ، عورت برقعہ پہنے یا چادر اوڑھے؟ اونٹ پر بہن بھائی بیٹھیں تو آگے بہن ہو یا بھائی؟کون سے وظیفے پڑھے جائیں؟
ایک استاد نے سوال کیا پہلے عربی پھر انگریزی اور آخر میں نہایت شستہ اردو میں جماعت اب یہ بتائے کہ جادو ، نظرِ بد، تعویز گندھ، اسیب کا سایہ بھر حق ہے یا نہیں؟ 35 40 طلباء کی یہ جماعت بیک آواز پہلے انگریزی میں بولی ’TRUE ‘ ’TRUE ‘ پھر عربی میں جواب دیا ’صحیح ‘ ، ’مضبوط‘یعنی اردو میں بر حق بر حق !
ایک استاد نے سوال کیا پہلے عربی پھر انگریزی اور آخر میں نہایت شستہ اردو میں جماعت اب یہ بتائے کہ جادو ، نظرِ بد، تعویز گندھ، اسیب کا سایہ بھر حق ہے یا نہیں؟ 35 40 طلباء کی یہ جماعت بیک آواز پہلے انگریزی میں بولی ’TRUE ‘ ’TRUE ‘ پھر عربی میں جواب دیا ’صحیح ‘ ، ’مضبوط‘یعنی اردو میں بر حق بر حق !
پھر ایک طالب علم نے کھڑے ہو کر سوال کیا ’’ہر استاد عبادت کے لئے نیت ضروری ہوتی ہے تو مردہ لوگوں کا حج بدل کیسے ہو سکتا ہے؟ قرآن تو کہتا ہے ہر شحض اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے‘‘ استاد بولے ’’قرآن ‘‘کی بات مت کرو روایات میں مسئلے ڈھونڈا کرو ۔ جادو ، نظرِ بد، تعویز، سیب وظیفے اور ورد استخارہ میں مسلمانوں کا ایمان پکا کر دو اور ستاروں میں ، ہاتھ کی لکیروں میں مقدر اور نصیب ہیں۔
یہ سب دیکھ کر ہم واپس ہوئے تو نواب چھتاری نے انگریزکولکلڑسے پوچھا ’’اتنے بڑے عظیم دینی مدرسے کو آپ نے چھپا کر کیوں رکھا ہے؟ انگریز نے کہا ، ان سب میں کوئی مسلمان نہیں‘‘ یہ سب عیسائی ہیں۔ تعلیم مکمل کرنے پر انہیں مسلمان ملکوں میں حصوصاً مشرقِ وسطا ، ترکی ، ایران اور ہندو ستان (برصغیر 1940 ) بھیج دیا جاتا ہے ۔ وہاں پہنچ کر یہ کسی بڑی مسجد میں جا کر نمازمیں شریک ہوتے ہیں نمازیوں کو کہتے ہیں کہ وہ یورپی مسلمان ہیں انہوں نے مصر کے جامع الاظہر جیسی یونیو رسٹی میں تعلیم پائی اور مکمل عالم ہیں۔
یورپ میں اتنے اسلامی ادارے موجود نہیں ہیں کہ وہ تعلیم دے سکیں وہ سردسر تنخواہ نہیں چاہتے صرف کھانا کپڑا سر چھپانے کی جگہ درکار ہے۔پھر وہ مؤذن،پیش ا مام
بچوں کے لیے قرآن کے معلم کی خدمات پیش کرتے ہیں۔تعلیمی ادارے ہوں تو اس میں استاد مقرر ہو جاتے ہیں۔ جمعہ کے خطبہ تک دیتے ہیں۔
نواب صا حب کے انگریز میزبان نے انہیں یہ کہہ کہ حیران کر دیا کہ اس عظیم مدرسے کا بنیادی ہدف یہ ہے کہ:۔
(۱)مسلمانوں کو روایات ذکر کر کے وظیفوں اور نظری مسائل میں الجھا کر قرآن سے دور رکھا جائے۔
(۲)حضوراکرمؐ کا درجہ جس طرح بھی ہو سکے گھٹایا جائے۔کبھی یہ کہہو کہ آپؐ رجل مسحور(نعوذ باللہ) یعنی جادو زدہ تھے ،کبھی حدیثوں کے حوالے سے یہ کہ
آپؐ نے بچی سے نکاح کیا تھا اور یہ آپ ہر رات گیارہ بیویوں کا دورہ فرمایا کرتے تھے۔
اِس انگریز نے یہ بھی بتایا کہ 1920 میں ’’رنگیلارسول ‘‘ نامی کتاب راجپال سے اسی ادارے نے لکھوائی تھی ۔ اس سے کئی برس پہلے مرزا غلام احمد قادیانی اور بہا اللہ کو نبی بنا کر کھڑا کرنے والا یہی ادارہ تھا اور اُن کی کتابوں کی بنیاد لندن کی اسی عمارت سے تیار کی جاتی تھی (حوالہ اردو ڈائجسٹ نومبر 1992لاہور)
بچوں کے لیے قرآن کے معلم کی خدمات پیش کرتے ہیں۔تعلیمی ادارے ہوں تو اس میں استاد مقرر ہو جاتے ہیں۔ جمعہ کے خطبہ تک دیتے ہیں۔
نواب صا حب کے انگریز میزبان نے انہیں یہ کہہ کہ حیران کر دیا کہ اس عظیم مدرسے کا بنیادی ہدف یہ ہے کہ:۔
(۱)مسلمانوں کو روایات ذکر کر کے وظیفوں اور نظری مسائل میں الجھا کر قرآن سے دور رکھا جائے۔
(۲)حضوراکرمؐ کا درجہ جس طرح بھی ہو سکے گھٹایا جائے۔کبھی یہ کہہو کہ آپؐ رجل مسحور(نعوذ باللہ) یعنی جادو زدہ تھے ،کبھی حدیثوں کے حوالے سے یہ کہ
آپؐ نے بچی سے نکاح کیا تھا اور یہ آپ ہر رات گیارہ بیویوں کا دورہ فرمایا کرتے تھے۔
اِس انگریز نے یہ بھی بتایا کہ 1920 میں ’’رنگیلارسول ‘‘ نامی کتاب راجپال سے اسی ادارے نے لکھوائی تھی ۔ اس سے کئی برس پہلے مرزا غلام احمد قادیانی اور بہا اللہ کو نبی بنا کر کھڑا کرنے والا یہی ادارہ تھا اور اُن کی کتابوں کی بنیاد لندن کی اسی عمارت سے تیار کی جاتی تھی (حوالہ اردو ڈائجسٹ نومبر 1992لاہور)
خدایا ایسا نہ ہو کہ مغرب رہن ہی میرا سماج رکھ لے
ہے فتنہ پرورنظام عالم تو اپنے مسلم کی لاج رکھ لے
ہے فتنہ پرورنظام عالم تو اپنے مسلم کی لاج رکھ لے
قارئین اکرام مندرجہ بالا دو مثالوں سے آپ کو یقیناًاندازہ ہو گیا ہو گا کہ وہابیت عالم اسلا م میں کسی مسلق کا نہیں بلکہ ہماری صفوں میں ایک زہر کی شکل میں سرائت کرنے ولا ایک ناسور ہے۔ ہمیں دیکھنا یہ کہ جبہ پوش گوری چمڑی والے مبلغین کہیں اس قسم کے مدرسوں سے تو تعلیم یافتہ نہیں جن کا اوپرذکر کیا گیا ہے ۔ اپنے علم کے طور پر ایک چھوٹی سی مثال اور دے دوں شاید اس سے وہابیت کو سمجنھے میں مزید آسانی ہو۔ وہابیت قبروں اور مزاروں پر پھول چڑھانے کو سختی سے منع کرتی ہے۔اس ممنوع حکم سے اُن کی کیا مراد ہے میں سمجھے سے قاصر تھاکہ ایک روز میں نے حضور اکرم کی ایک حدیث پڑھی جس کا مفہوم یہ تھا کہ نبی اکرمؐ صحابہ کی جماعت کے ساتھ ایک قبر ستان سے گزر رہے تھے ایک قبر کے پاس سے گزرتے ہوئے قریب ہی ایک درخت سے تازہ شاخ توڑ کر قبر پر رکھ دی صحابہ کرام کے اسفسار پر آپؐ نے فرمایا کہ اس صاحبِ قبر پر عذاب ہو رہا تھا۔ شاخ کے تازہ پتے چونکہ ذکرِالہیٰ میں مشغول رہتے ہیں لہذٰہ جب تک یہ پتے خشک نہیں ہو جاتے ذکر الہیٰ کی وجہ سے یہ عذاب موقوف رہے گا۔ آج کے دور میں بھی جدید سائنس کی تحقیق سے ثابت ہے کہ تمام نباتات جاندار ہیں اور آکسیجن حاصل کرتے ہیں لہذٰہ جاندار ہونے کے ناطے ذکرِ الہیٰ میں مشغول رہتے ہیں۔ لیکن ہمیں اس کا ادراک نہیں ہے۔ اسی طرح پھول کی پتیاں بھی زیادہ دیر تک تازہ رہتی ہیں جس کا مطلب قبر پر چڑھانے سے اہل قبر کو عذاب سے محفوظ رکھنا ہے۔
ضرورت اس عمل کی ہے کہ تمام بڑے بڑے ممالک سے اچھے اچھے پھول لے کر ایک گلدستہ بنایا جائے اور خیال رہے کہ اس گلدستے میں کوئی کانٹا وہابیت کی شکل میں شامل نہ ہو۔ علماء کرام کو موجودہ دور میں تما م مکتباء فکر آئمہ و طاہرین کی روایات کو مد نظر رکھ کر ایک ایسا ہی گلدستہ بنانے کی ضرورت ہے (امی